ترونتاپورم 26 اکتوبر(ایس او نیوز/ایجنسی) ہائی کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے سے شہ پا کر کیرالہ حکومت کے زیرانتظام ٹراوانکور دیواسووم بورڈ (TDB) نے آرایس ایس اور دیگرشدت پسند تنظیموں سے جُڑے کارکنوں کے ذریعے مندروں کے احاطے میں کسی بھی طرح کی سرگرمیوں پرپابندی عائد کر دی ہے.
میڈیا رپورٹوں کے مطابق حال ہی میں کیرالہ ہائی کورٹ کی طرف سے شری سرکار دیوی مندر کو لے کرجاری کئے گئے ایک حکم میں کہا گیا تھا کہ مندر کے احاطہ میں اسلحوں کی اجازت نہیں ہوگی۔ چونکہ آر ایس ایس کی شاخہ مندروں میں لگتی تھی اور آر ایس ایس کارکنان اسلحہ کے ساتھ پروگرام منعقد کرتے تھے، اس لیے عدالت نے انھیں مندر سے دور رہنے کا حکم دیا تھا۔ اب تراونکور دیوسوم بورڈ نے اپنے ماتحت آنے والے سبھی 1200 مندروں میں آر ایس ایس کی انٹری پرہی پابندی لگا دی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 20 اکتوبر کو تراونکور دیوسوم بورڈ کی جانب سے ایک سرکلر جاری کیا گیا جس میں مندروں میں ’سرپرائز وزٹ‘ کی بات کہی گئی ہے۔ ساتھ ہی اس بات کی جانچ کرنے کے لیے کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس یا شورش پسند نظریہ والی کوئی تنظیم مندروں میں اپنی شاخہ، اجتماعی پریکٹس، مباحثے یا اسلحہ کی ٹریننگ کر رہے ہیں یا نہیں۔ سرکلر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کئی شکایتیں ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ آر ایس ایس اور دیگر گروپوں نے کئی مندروں پر قبضہ کیا ہے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ یہ تنظیم مندروں کی پاکیزگی اور بھکتوں کے مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم (آر ایس ایس) رات میں اسلحوں کی ٹریننگ کر رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق تراونکور دیوسوم بورڈ کے ذریعہ جاری سرکلر میں کہا گیا ہے کہ آر ایس ایس کے خلاف کارروائی نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ سرکلر میں افسران کو ایسے اشخاص کی تصویریں ہٹانے کا حکم دیا گیا ہے جو مندر سے منسلک نہیں ہیں۔ ان میں سیاسی پارٹیوں کے نشانات اور پرچم بھی شامل ہیں۔